1 جولائی 2011 - 19:30

بحرین میں آل خلیفہ حکومت نے ایک نمائشی اقدام کرتے ہوئے منامہ میں نام نہاد قومی مذاکرات کے آغاز کا اعلان کیا ہے اور بحرین کے سیاستدانوں نے ملا جلا رد عمل ظاہر کیا ہے۔

اہل البیت (ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا ـ کی رپورٹ کے مطابق ــ ان مذاکرات میں سیاسی جمعیتوں اور سول سوسائٹی کے 300 نمائندوں کی شرکت کا اعلان کیا گیا ہے لیکن شائع ہونے والی تصویروں سے ظاہر ہوتا ہے کہ مذاکرات میں اپوزیشن کے اہم راہنما شریک نہیں ہیں۔الجزیرہ ٹی وی ـ جو انقلاب بحرین کا بائیکاٹ کئے ہوئے ہے اور اس کے کئی اہم کارکن اسی بنا پر اس چینل سے مستعفی ہوگئے ہیں ـ نے رپورٹ دی ہے کہ آل خلیفہ حکومت کی مذاکراتی ٹیم کے اراکین ـ جن کے نام اور سرکاری مناصب کا اعلان نہیں ہوا ہے ـ ان مذاکرات میں شریک ہیں اور بحرین میں مقیم بعض بیرون ملکی افراد بھی شرکت کررہے ہیں۔ خلیفی حکومت نے ان مذاکرات میں انقلاب بحرین میں شریک جماعتوں کو نہایت کم نشستین مختص کردی ہیں اور گو کہ مذاکرات کے فریقین حکومت اور اپوزیشن ہے لیکن اپوزیشن کو در حقیقت مذاکرات سے باہر رکھا گیا ہے۔ مثال کے طور پر جمعیة الوفاق الاسلامی ـ جو بحرین کی 40 رکنی پارلیمان میں اٹھارہ نشستوں کی مالک تھی، کو ان مذاکرات میں 5 نشستین دی گئی ہیں جبکہ تمام سیاسی راہنما اور اہم سیاسی جماعتوں کے مرکزی اراکین و قائدین خلیفی اذیتکدوں میں پابند سلاسل ہیں جنہیں در حقیقت اس قسم کے مذاکرات میں شرکت کرنا چاہئے تھا۔ دوسری طرف سے آل خلیفہ حکومت نے دسیوں انقلابی اسیروں کو جیلوں سے رہا کردیا ہے تا کہ مذاکرات کے لئے ایک راستہ بن سکے اور بحرین کے عوام کی توجہ مذاکرات کی طرف مبذول کرائی جاسکے۔جمعیة الوفاق مذاکرات میں شرکت پر کیوں آمادہ ہوئیجمعیة الوفاق نے مذاکرات میں شرکت کے لئے اپنے دلائل کا اعلان کردیاالوفاق کے مرکزی رکن «عبد علي محمد حسن» نے کہا: الوفاق مذاکرات کو اپنا مقصد نہیں سمجھتی بلکہ مذاکرات بحرینی ملت کے قومی اور قانونی حقوق کے حصول کا ایک راستہ ہے۔انھوں نے کہا: الوفاق کا مطالبہ یہ ہے کہ بحرین کو ایک منتخب حکومت ملنی چاہئے جو منتخب پارلیمان سے معرض وجود میں آئے اور یہ حکومت عوام کی حقیقی نمائندہ ہو۔ الوفاق کے ایک دوسرے اہم راہنما خلیل المرزوق نے الجزیرہ نیٹ ورک سے بات چیت کرتے ہوئے مذاکرات کے حوالے سے خلیفی حکمرانوں کی سنجیدگی کو مشکوک قرار دیا اور خلیفی بادشاہ کی طرف سے قومی مذاکرات کے لئے بحرینی پارلیمان کے سربراہ "خلیفہ الظہرانی" کو مذاکرات کی سربراہی کا عہدہ سونپے جانے پر تنقید کرتے ہوئے کہا: یہ شخص مذاکرات میں شرکت کی اہلیت نہیں رکھتا کیونکہ وہ بادشاہ سے بڑھ کر بادشاہ ہے اور اس کا رویہ آمرانہ ہے۔

لنک - الوفاق کا تفصیلی موقف:

بحرین / مذاکرات میں شرکت، جمعیة الوفاق کے دلائل

عباس عمران کا موقف: مذاکرات کی پیشکش؛ آل خلیفہ کی مکاریبحرین کی مرکزی انسانی حقوق تنظیم کی رکن "عباس عمران" نے کہا ہے کہ آل خلیفہ خاندان بیرونی دباؤ کم کرنے اور عوامی رائے عامہ کو دھوکا دینے کے لئے مذاکرات کا ڈھونگ رچا رہا ہے اور وہ دنیا کو یہ باور کرانے کی کوشش کررہا ہے کہ بحرین میں کوئی انقلاب نہیں ہے بلکہ یہاں شیعہ اور سنی عوام کے درمیان فرقہ وارانہ جھگڑا ہے اور آل خلیفہ حکومت اس جہگڑے میں فریق نہیں ہے۔ انھوں نے کہا کہ بحرین میں بحران کی جڑ قدامت پسند اور قبائلی رجحانات کی دلدادہ خلیفی حکومت ہے جو عرصہ دراز سے بحرین کے عوام پر آمریت مسلط کئے ہوئے ہے۔ انھوں نے کہا کہ مذاکرات کا کوئی مثبت نتیجہ نہیں نکلے گا بلکہ ماضی کی طرح مذاکرات کی یہ دعوت بھی عوام کی سرکوبی کا پیش خیمہ ثابت ہوگی۔

لنک - عباس عمران کا تفصیلی موقف:

بحرین / عباس عمران: مذاکرات کی پیشکش؛ آل خلیفہ کی مکاری

کریم المحروس کا موقف: حالات مذاکرات کے لئے سازگار نہیں ہیں بحرینی سیاستدان کریم المحروس کا موقف: حالات مذاکرات کے لئے سازگار نہیں ہیں کریم المحروس العالم سے بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ بحرین میں مذاکرات کے لئے فضا سازگار نہیں ہے اور ان مذاکرات میں شرکت بڑی غلطی ہوگی۔انھوں نے کہا: ان مذاکرات میں شرکت سے عالمی برادری کو یہ گماں گذے گا کہ گویا خلیفی خاندان مذاکرات کا خواہاں ہے اور اس خاندان کی حکومت نے مذاکرات کی کامیابی کے لئے بنیادیں فراہم کی ہیں۔ چنانچہ اپوزیش کا فرض بنتا ہے کہ دنیا والوں کو باور کرادے کہ یہ مذاکرات ایک ڈھونگ کے سوا کچھ نہیں ہیں، یہ مذاکرات غیر صحتمند ہیں، ان مذاکرات کا مقصد غیر قانونی خلیفی حکومت کو قانونی حیثیت دینا ہے اور انسانیت کے خلاف جنگی جرائم کا ارتکاب کرنے والے خلیفی حکمران ان مذاکرات کے ذریعے سزا سے بچنے کی کوشش کررہے ہیں۔

لنک - کریم المحروس کا تفصیلی موقف:

کریم المحروس کا موقف: حالات مذاکرات کے لئے سازگار نہیں ہیں

عبدالالہ الماحوذی کا موقف: بحرینی عوام خلیفی حکومت کے ساتھ مذاکرات کے خلاف ہیںبحرین کے اس سیاستدان نے خلیفی حکمرانوں کے ساتھ مذاکرات میں جمعیةالوفاق کی شرکت پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ مذاکرات کے لئے جوفضا قائم کی گئی ہے اور جو تمہیدات رکھی گئی ہیں اور مذاکرات کے لئے جس ایجنڈے کا تعین ہوا ہے اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ یہ مذاکرات کسی نتیجے کے بغیر اختتام پذیر ہونگے اور مذاکرات کے شرکاء کو ناکامی کا منہ دیکھنا پڑے گا۔ انھوں نے خلیفی حکمرانوں کی متضاد پالیسیوں کی طرف اشارہ کرتے ہوئے خلیفی بادشاہ کی طرف سے مذاکرات کے دعوؤں کی مذمت کرتے ہوئے کہا: آل خلیفہ خاندان نے جب سے اس ملک میں اقتدار سنبھالا ہے جھوٹ اور تضاد گوئی کی پالیسی پر گامزن رہا ہے، اور یوں کہ اپنے طویل دور اقتدار نے اس حکومت نے ہمیشہ اصلاحات اور عوامی مسائل حل کرنے کے نعرے لگائے اور دوسری طرف سے جبر و تشدد اور عوام کو کچلنے کی پالیسی پر گامزن رہی اور عوام کا قتل عام اس کے دائمی ایجنڈے کا حصہ رہا ہے۔

لنک - عبدالالہ الماحوذی کا تفصیلی موقف:

عبدالالہ الماحوذی کا موقف: بحرینی عوام خلیفی حکومت کے ساتھ مذاکرات کے خلاف ہیں

مذاکرات کے اعلان کے باوجود سعودیوں کو بحرینی شہریت دینے کا سلسلہ جاری ہےابنا کے مطابق ایک طرف سے آل خلیفہ حکومت نے عوامی نمائندوں سے مذاکرات کے آغاز کا اعلان کیا ہے اور دوسری طرف سے خلیفی حکام ہزاروں سعودی باشندوں کو بحرینی شہریت دے رہے ہیں اور ہنگامی طور پر قومی شناختی کارڈ اور پاسپورٹوں کا اجراء تیزی سے جاری ہے۔ قابل ذکر ہے کہ بحرینی انقلاب کا ایک مقصد بیرون ملک سے آئے ہوئے افراد کو شہریت دینے کے سلسلے کا خاتمہ تھا جبکہ آل سعود اور آل خلیفہ کے خفیہ معاہدے کے تحت ہزاروں سعودی شہریوں کو شہریت دی جائے گی جس کا مقصد بحرین کی شیعہ اکثریت کو اقلیت میں تبدیل کرنا اور آنے والے انتخابات میں غیر شیعہ آبادی کو زیادہ سے زیادہ نشستیں دینا بیان کیا گیا ہے۔

ڈاکٹر نبیل رجب کا موقف: آل خلیفہ بادشاہ کی طرف سے مذاکرات کی پیشکش ایک دھوکا ہےانھوں نے کہا کہ آل خلیفہ حکومت عوام اپنے لئے حکومت کا جواز ڈھونڈرہی ہے اور مذاکرات کی پیشکش کا مقصد بھی یہی ہے/ مذاکرات میں انقلابی قوتوں کو نو فیصد نمائندگی دی گئی ہے۔اہل البیت (ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا ـ کی رپورٹ کے مطابق بحرین کے انسانی حقوق مرکز کے سربراہ ڈاکٹر نبیل رجب نے کہا: عوامی سطح پر ان مذاکرات کا خیر مقدم نہیں ہوا کیونکہ سب جانتے ہیں کہ یہ ایک نمائش ہے؛ بحرینی عوام کے مطالبات استقامت اور پامردی کے نتیجی میں ہی پورے ہوسکتے ہیں کیونکہ آل خلیفہ کے بادشاہ کے مذاکرات کی تجویز غیر سنجیدہ ہے اور اور وہ ان مذاکرات کے ذریعے دنیا والوں کو باور کرانا چاہتے ہیں کہ گویا بحرین میں شیعہ اور سنی عوام کے درمیان اختلافات ہیں اور مذاکرات سنی اور شیعہ عوام کے درمیان ہورہے ہیں جن میں حکومت ثالثی کررہی ہے۔ڈاکٹر نبیل رجب کا رد عمل: بحرین / ڈاکٹر رجب: آل خلیفہ بادشاہ کی مذاکرات کی پیشکش دھوکا ہے

..........

/110